شری مدبھگود گیتا – سترہواں باب – عقیدت اوم بتت ست باب جز جوگ
————————–
شری کرشن نے جس وقت “گیتا” کی نصیحت دی تھی۔ اس وقت ان کے دلی احساسات کیا تھے؟ دلی احساسات کے سارے خیالات کا اظہار نہیں کیا جاسکتا! کچھ تو بیان میں آپاتے ہیں، کچھ ادا سے ظاہر ہوتے ہیں اور باقی خالص عملی ہیں، جسے کوئی راہ رو چل کر ہی جان سکتا ہے! جس مقام پر شری کرشن فائز تھے، دھیرے۔، دھیرے چل کر اسی مقام کو حاصل کرنے والا عظیم انسان ہی جانتا ہے کہ گیتا کیا کہتی ہے! وہ گیتا کے سطور ہی نہیں دہراتا بلکہ ان کے مفہومات کا بھی اظہار کردیتا ہے! کیوں کہ جو منظر شری کرشن کے سامنے تھا، وہی اس موجودہ عظیم انسان کے سامنے بھی ہے! لہذا دیکھتا ہے، دکھادے گا، آپ میں جگا بھی دے گا، اس راہ پر چلا بھی دے گا۔
بزرگوار شری پرم ہنس جی مہاراج بھی اس سطح کے عظیم انسان تھے۔ ان کے الفاظ اور باطنی ترغیب سے مجھے گیتا کا جو مفہوم ملا، اس کی تدوین ‘یتھارتھ گیتا’ ہے۔
سوامی اڑگڑانند
————————–
شرح نویس کے متعلق
“یتھارتھ گیتا” کے شرح نویس ایک عابد ہیں جو تعلیمی خطابوں سے وابستہ نہ ہونے پر بھی مرشد کی مہربانی کے ثمرہ کی شکل میں خدائی احکام سے متحرک ہیں۔ مضمون نویسی کو آپ ریاضت اور عبادت میں خلل مانتے رہے ہیں لیکن گیتا کی اس تشریح میں ہدایت ہی وسیلہ بنی۔ معبود نے آپ کو احساس میں بتایا کہ آپ کے سارے خصائل ساکن ہوگئے ہیں، صرف معمولی سا ایک رجحان باقی ہے۔ گیتا کی مضمون نویسی۔ پہلے تو سوامی جی نے اس رجحان کو یاد الہی سے کاٹنے کی کوشش کی لیکن معبود کے حکم کی مجسم شکل ہے۔ یتھارتھ گیتا، تشریح میں جہاں بھی خامی ہوتی معبود اصلاح کردیتے تھے۔ سوامی جی کے خود کے سکون کے واسطے لکھی یہ تشریح سب کے سکون کا باعث بنے اسی نیک خواہش کے ساتھ۔
از طرف ناشر